الصفحة 164 من 228

پھر تو یہ حالت ہو گئی کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنا ،گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا چپکا دیتا تھا۔ [صحیح بخاری:۷۱۸]

صف کو ملاتے وقت ٹخنے سے ٹخنا ،گھٹنے سے گھٹنا ،کندھے سے کندھا ملا ہوا ہو:

''أبو داود: ۶۶۲و ھو حدیث صحیح'' سینے سے سینہ اور کندھے سے کندھا (ساتھ والے مقتدی کے) برابر ہو نا چاہئے۔

[أبو داود:۶۶۴وسندہ صحیح، اسے ابن خزیمہ (۱۵۵۱) اور ابن حبان (۳۸۶) نے صحیح کہا ہے ]

گردنیں بھی ایک دوسرے کے برابر ہونی چاہئیں ۔

(ابو داود:۶۶۷وسندہ صحیح، اسے ابن خزیمہ(۱۵۴۵) اور ابن حبان (۳۸۷) نے صحیح کہا ہے)

اور دوسرے (ساتھی) کے قدم سے قدم ملانا چاہئے۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' صفوں کو قائم کرو مونڈھوں کو برابر کرو اور خالی جگہوں (جو صفوں کے درمیان رہ جائیں ) کو بند کرو ، اپنے بھائیوں (نمازیوں ) کے لئے نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے صفوں میں جگہ نہ چھوڑو ، جو شخص صف ملائے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے ) ملائے گا۔ اور جو شخص صف کو کاٹے گا تواللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے) کاٹے گا۔''

[أبو داود: ۶۶۶وسندہ حسن، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۹) حاکم (۱/۲۱۳) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے]

صف میں مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہونا چاہئے:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رصوا صفو فکم'' سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی صفوں کو ملاؤ۔

(أبو داود:۶۶۷ وسندہ صحیح، اس حدیث کو ابن خزیمہ(۱۵۴۵) اور ابن حبان (۳۸۷) نے صحیح کہا ہے )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت