الصفحة 170 من 228

٭ (۱) : مذکورہ حدیث میں امام کامقتدی کو پیچھے کرنے کا ذکر ہے ۔

٭ (۲) : اگر امام اور ایک مقتدی دونوں اکھٹے نما ز پڑھ رہے ہیں،کوئی تیسرا بھی جماعت میں شامل ہوگیا تو امام خود اگلی صف میں بھی جاسکتاہے ۔

(دیکھئے: صحیح ابن خزیمہ:۱۵۳۶ وسندہ صحیح ، سعید بن أبي ہلال حدّث بہ قبل اختلاطہ)

٭ (۳) : اگر امام کے علاوہ ایک مرد ہو اور ایک عورت تو مرد امام کی دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت پیچھے کھڑی ہو۔ (صحیح مسلم: ۲۶۹/۶۶۰ وترقیم دارالسلام: ۱۵۰۲)

عورت اگر عورتوں کی امامت کرائے تو وہ صف میں کھڑی ہو گی:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرض نماز پڑھائی اور آپ عورتوں کے درمیان (صف میں ) کھڑی ہوئیں۔ (سنن دارقطنی ۱/۴۰۴ح ۱۴۲۹ ، وسندہ حسن)

دوستونوں کے درمیان صف نہیں بنانی چاہئے:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

'' ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (ستونوں کے درمیان صفیں بنانے سے) بچتے تھے۔''

(أبوداود: ۶۷۳ وسندہ صحیح ، ترمذی(۲۲۹) نے اس کو حسن کہاہے ) حاکم:۱/۲۱۸ اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

صفیں ایک دوسرے کے قریب ہونی چاہئیں:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''…صفوں کے درمیان تم قربت کرو۔''

(أبو داود:۶۶۷وسندہ صحیح، النسائي: ۸۱۶، اس حدیث کو ابن خزیمہ(۱۵۴۹) ابن حبان (الموارد ۳۸۷) نے صحیح کہا ہے )

امام کی ذمہ داریاں:

۱۔ امام اس وقت تک نماز پڑھانا شروع نہ کرے جب تک تمام صفیں سیدھی نہ ہوجائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت