الصفحة 177 من 228

وقت اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر رکھا تھا۔ ( مناقب احمد ص ۴۰۶ وسندہ صحیح بحوالہ ماہنامہ الحدیث: ۲۶ص۱۸)

حافظ ابن حزم فرماتے ہیں کہ (میت کو ) قبلہ رخ کرنا اچھا ہے اگر نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ:

{ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ }

اور کوئی نص (صحیح حدیث ) میت کو قبلہ رخ کرنے کے متعلق نہیں آئی۔ امام شعبی نے کہا کہ کرو یا نہ کرو آپ کی مرضی ہے۔ ( المحلیٰ ۵/۱۷۳۰،۱۷۴، مسئلہ: ۶۱۶)

جن موقعوں پر قبلہ رخ ہونا منع ہے:

قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کرنا منع ہے۔

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا أتٰی أحدکم الغائط فلا یستقبل القبلۃ ۔

''جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لئے آئے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے۔'' (صحیح بخاری: ۱۴۴)

قبلہ رُخ پیشاب کی ممانعت کے لئے دیکھئے: صحیح مسلم (۵۹/۲۶۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت