فهرس الكتاب

الصفحة 59 من 104

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے جیسا کہ بیشمار احادیث سے پتہ چلتا ہے۔

لہٰذا عید الفطر کے ساتھ ہی نمازِ پنجگانہ کی فکر نہیں جاتی رہنی چاہیئے۔سلفِ امّت میں سے ایک اللہ والے کو کہا گیا کہ بعض لوگ رمضان میں تو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔پھر اسکے بعد سب کچھ چھوڑبیٹھتے ہیں۔تو اس نے کہا:

(بِئْسَ الْقَوْمُ قَوْمٌ لَایَعْرِفُوْنَ لِلّٰہِ حَقًّا اِلَّا فِیْ رَمَضَانَ)

''کتنے برے ہیں وہ لوگ جو صرف رمضان میں ہی اللہ کے حق کو پہچانتے ہیں۔''

ساتھ ہی اپنے مخاطب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

(کُنْ رَبَّانِیًّا وَلَا تَکُنْ رَمَضَانِیًّا) [1]

''صرف رمضانی نہ رہو بلکہ ربّانی بنو۔''

نمازیوں کی اقسام

یہاں یہ بات بھی پیش ِنظررکھیں کہ موسمی عبادت گزاروں یا رمضانی نمازیوں کی طرح ہی نمازیوں کی چند اور قسمیں بھی ہیں مثلًا۔

1آٹھ کے نمازی:

وہ لوگ جو سارا ہفتہ پنجگانہ نمازوں سے تو قطعی غافل وبیگانہ رہتے ہیں کہ جیسے ان پر فرض ہی نہیں اور جب آٹھ دن کے بعد جمعہ کا وقت آتا ہے تونہا دھوکر خوب بنے ٹھنے اور اجلا لباس پہنے جامع مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت