فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 104

آج کے مسلمان ایک لمحۂ فکریہ

یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ بات بھی بچوں کے بارے میں ہے جو کہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں چاہے عمر کے لحاظ سے ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں جبکہ عمومًا دیکھا گیا ہے کہ کتنے ہی لوگ وہ ہیں جو اپنے اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس بلکہ پچیس پچیس سال کے تندرست وتوانا اور عاقل وبالغ بچوں کو نہ صرف یہ کہ روزہ نہیں رکھواتے بلکہ روزہ نہ رکھنے پر آمادہ کرتے ہیں اور دلیل یہ ہوتی ہے کہ تمہارے امتحانات ہورہے ہیں ،تم صحیح طور پر محنت نہیں کرسکوگے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔

ایسے بچوں اور بچیوں کو خود ہی اپنے خالق ومالک سے ڈرنا چاہیئے اوریاد رکھنا چاہیئے کہ عاقل اور بالغ ہوجانے کی وجہ سے روزہ ان پر فرض ہوچکا ہے۔ اور کچھ ہونہ ہویہ فرض پورا کرنا ہی ہوگا۔اور پھر عمومًا فرائضِ دین کی ادائیگی تو تمام کامیابیوں اور کامرانیوں کی چابی ہے پھر محض امتحان کی تیاری کیلئے روزہ چھوڑدینا چہ معنیٰ دارد؟

اسی طرح انکے والدین اور بڑے بہن بھائیوں یا سرپرستوں کو بھی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہیئے کہ کہیں اللہ کی نافرمانی کرنے اور کروانے کی پاداش میں نہ دھر لیے جائیں اور اسکا اثر ان پر اور ان کی اولاد پر نہ ہو اوردین ودنیا کی کامیابی مخدوش نہ ہوجائے۔

پھرویسے بھی والدین تواپنے گھر کی رعایا کے حاکم ہوتے ہیں اور قیامت کے دن ان سے انکی اس رعایا کے بارے میں سوال کیا جائیگا جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

(( کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔۔۔۔۔وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ اَھْلِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہ،وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِھَا وَمَسْئُوْلَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا ) ) [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت