فهرس الكتاب
مصنف عبدالرزاق میں سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے ایک بصرہ نامی شخص نے کہا میں نے ایک پردہ دار عورت سے شادی کی تو جب میں اس کے پاس گیاتودیکھا کہ وہ حاملہ تھی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا،وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ،فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدْهَا"
اس کے لیے اس کی شرمگاہ حلال کرنے کے عوض مہر ہوگا اور لڑکا تیراغلام ہوگا اور جب وہ بچہ جن دے تواسے درے لگاؤ،پھر آپ نے ان دونوں میں جدائی کردی۔ [1]
مؤطا اور بخاری ومسلم میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمر بن حفص نےا سے طلاق بتہ دے دی اور مسلم اور نسائی میں ہے کہ آخری طلاق جوباقی رہ گئی تھی اور وہ شام میں غائب تھا تواس کی طرف اپنا وکیل بھیجا تو وہ اس بات پر ناراض ہوئی،اس نے کہا اللہ کی قسم تیراحق ہم پر اور کچھ بھی نہیں ۔
نسائی کی کتاب میں ہے کہ ابوعمربن حفص نے اپنی عورت کی طرف حارث بن ہشام بن ابی ربیعہ کواس کا نفقہ دے کر بھیجا تو وہ اس سے ناراض ہوئی،اس نے کہا: اللہ کی قسم اگر توحاملہ نہ ہوتوتیرا ہم پر کوئی نفقہ نہیں اور نہ ہی توہمارے گھرمیں ہماری اجازت کے بغیر رہ سکتی ہے۔