راوی نے کہا پھر وہ اس صلح پر راضی ہوگئیں اور ان کے پاس رہنے لگیں ۔ [1] یہ الفاظ المدونہ کے ہیں ،مگر مؤطا میں یہ الفاظ نہیں کہ اس کے متعلق قرآن نازل ہوا اورا س کو نحاس نے بھی ذکر کیا۔
بخاری میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ کو ابوسفیان کی لڑکی کی کوئی خواہش ہے ؟
آپ نے فرمایا:"فَاعِلٌ مَاذَا"میں کیاکروں ؟
میں نے کہا آپ ا س سے نکاح کرلیں ۔
آپ نے فرمایا:"أَتُحِبِّينَ"کیاتویہ بات پسند کرتی ہے ؟
میں نے کہا میں آپ کے نکاح میں اکیلی ہی تو نہیں توآپ کی خبر کے معاملہ میں میرےساتھ جوشریک ہوا اس میں تومیری بہن مجھے زیادہ محبوب ہے،آپ نے فرمایا:"إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي"وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔
میں نے کہا میں نے سنا ہے کہ آ پ ''درہ'' کومانگ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ابنت ام سلمة ؟ کیا ام سلمہ کی بیٹی درہ کے متعلق کہہ رہی ہو،میں نے کہا جی ہاں ،آپ نے فرمایا:
"لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ،أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ،فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" [2]
اگر وہ پروردہ نہ بھی ہوتی توپھر بھی میرے لیے حلال نہیں کیونکہ مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا مجھ پر اپنی بہنیں اور بیٹیاں پیش نہ کیا کرو۔
[2] البخاری (1501) 5106) عن ام سلمة رضی اللّٰه عنها.