فهرس الكتاب

الصفحة 147 من 295

کتاب الطلاق

حائضہ کی طلاق کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ

مؤطا بخاری ومسلم اور نسائی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حیض کےدوران میں طلاق دے دی تواس بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سوال کیا،توآپ نے فرمایا:

"مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا،ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ،ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ،ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ،وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ،فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُانتھی حدیث المؤطا" [1]

اسےحکم دے کہ اس سے رجوع کرے،پھر پاک ہونے تک اپنے پاس رکھے،پھر وہ حیض والی ہوجائے،پھر اگر چاہے توچھونے سے پہلے پہلے اسے طلاق دےدے۔تویہ وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ ا س کے مطابق عورتوں کوطلاق دی جائے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نےکہا تواس کو ایک طلاق شمار کیا گیا نافع کے ساتھیوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیاہے۔ [2]

زہری نے محمد بن عبدالرحمٰن عن سالم عن ابیه اور یونس بن جبیر نے عن ابن عمر روایت کیاہے اور زید بن اسلم اور ابن سیرین ابن عمر سے ابن زلزبیر نے عمر اور سعید بن جبیر نے ابن عمرسے اور ابووائل نے ابن عمرسے روایت کیاہے،انہوں نے اپنی روایت میں کہا۔

"مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا،ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ،ثُمَّ تَحِيضَ،ثُمَّ تَطْهُرَ،ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ،وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ" [3]

[2] البخاری (5252) ومسلم (1471) و (4) وعن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما.

[3] مسلم (14و1471) عن ابن عمر رضی اللّٰه عنهما.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت