فهرس الكتاب
جب دوخرید وفروخت کرنے والے اختلاف کریں توفروخت کرنے والے کی بات مانی جائے گی یاپھر وہ دونوں اپنااپنامال واپس کرلیں ۔
المدونہ میں ہے:
"اذااختلف المتبایعان استحلف البائع ثم المنتاع بالخیار ان شآء اخذ وان شآء حلف وترک" [1]
جب دوبیع کرنے اختلاف کریں توفروخت کرنے والے سے قسم لی جائے گی اس کے بعد خریدنے والے کواختیار ہوگا وہ چاہے تومال لے لےا ور چاہے توقسم اٹھا کر سوداچھوڑدے۔
اشہب نے کہاکہ حدیث:
"الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا"
دوخرید فروخت کرنے والے جدا ہونے تک اختیار رکھتے ہیں ۔
پر عمل نہیں ہے اور روایت کیاجاتاہے کہ یہ منسوخ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"المسلمون عند ربھم شروطھم" [2] مسلمان اپنی شرائط پر کے نزدیک ہوتے ہیں ۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ اسْتُحْلِفَ الْبَائِعُ" [3]
جب لین دین کرنے والے اختلاف کریں تو فروخت کرنے والے سے قسم لی جائے۔
اس کو مالک نے مرسل طور پر روایت کیا۔اور یہ روایت الدلائل میں یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابن عجلان نے عون بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔
[2] رواہ الحاکم فی المستدرک 2/49 وصححه الحاکم فی المستدرک قال الذھبی کثیر بن زید ضعفه النسائی.
[3] الدارقطنی فی السنن (3/18) عن عبداللّٰه بن مسعود فی اسنادہ عبدالملک بن عبیدہ قال الحافظ فی التقریب مجھول الحال.