فهرس الكتاب
اس واقعہ کا ذکر کیاتو آپ نے بھی اس سے یہی مطالبہ کیا مگر وہ نہ مانا،پھر آپ نے فرمایا اس کوہبہ کردے اور تجھے اتنااور اتنا ملے گا مگراس نے پھر بھی انکار کیا،آپ نے فرمایا تونقصان دینے والا ہے،پھر آپ نے انصاری کوکہا"اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ"جاؤ جاکر اس کے درخت وہاں سے اکھیڑ ڈالو۔ [1]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کے درخت کی حدود اور تحفظ کے متعلق جھگڑا لے کر گئے توآپ نے ان کی پیمائش کاحکم دیاتو وہ سات ہاتھ تھی ایک اور حدیث میں پانچ ہاتھ ہے توآپ نے اس کے ساتھ فیصلہ دے دیا۔تو وہ سات ہاتھی تھی ایک اور حدیث میں پانچ ہاتھ ہے توآپ نے اس کے ساتھ فیصلہ دے دیا۔ [2]
عبدالعزیز نے کہا کہ اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی سے اس کی پیمائش کی گئی۔
[2] ابوداؤد (364) عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰه عنه.