فهرس الكتاب
مؤطا کے علاوہ دیگر کتب میں ہے کہ جولحد کھودتا تھا اس کا نام سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرا جولحد نہیں کھودتاتھا وہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھا۔
سیرت کی کتب میں ہے کہ آپ کا بستراٹھایا گیا اور اس جگہ کو نیچے سے کھودا گیا۔پھر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھلے طور پر آنےلگے اور آپ پردورد اور دعا پڑھنے لگے۔جب مرد فارغ ہوگئے توعورتیں آنے لگیں جب وہ بھی فارغ ہوگئیں توبچے آنے لگے اور پھر آپ کو دفن کردیا گیا۔ [1]
ابن ابی زید کی مختصر کتاب الجامع کے آخر میں ہے کہ ابن عقبہ نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں ان کی باری کے دن میں اور آپ کے سینے پر پوری چاشت کے وقت فوت ہوئے۔
امام مالک نے کہا آپ پیر کے بارہ ربیع الاول کوفوت ہوئے اور منگل کے روز دفن کیے گئے۔بعض نے کہا جب سورج ڈھل گیا اس وقت دفن کیے گیے اور آپ کو سیدنا عباس،سیدنا علی،سیدنا فضل بن عبا س،اور سیدنا شقران رضوان اللہ اجمعین آپ کے غلام نے آپ کو غسل دیا۔بعض نے کہاصالح نے غسل دیا جوآپ کاغلام تھاا ور یہ آپ کی قبرمبارک میں اترے تھے ا ور کہا جاتا ہے ان کے ساتھ سیدنا اسامہ اور سیدنا اوس بن خولہ رضی اللہ عنہا بھی تھے۔آپ کی بیماری میمونہ بنت الحارث کے گھر میں بدھ 28صفر کو شروع ہوئی،پھر آپ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہوگئے یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئے آپ کی بیماری میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کےحکم پر سترہ نمازیں لوگوں کوپڑھائیں ،کتاب الاجری میں ہے آپ نودن بیمار رہے۔