بیان فرمائی، کہ جمعہ عید ہے۔'' [1]
علاوہ ازیں امام مالک نے حضرت نافع ؒ سے روایت نقل کی ہے، کہ:
''أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رضی اللّٰهُ عنہ کَانَ یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَغْدُوَ إِلَی الْمُصَلّٰی۔'' [2]
''بے شک عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے۔''
بہترین کپڑے پہن کر عید کے لیے جانا
عید کے لیے بہترین لباس پہن کر جانا مستحب ہے۔ [3] امام ابن قیم نے بیان کیا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر اپنا سب سے زیادہ خوبصورت لباس پہنتے تھے۔ [4]
اس بات کی تائید اُس حدیث سے ہوتی ہے، جسے امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، کہ انھوں نے کہا:
[2] الموطأ، کتاب العیدین، باب العمل في غسل العیدین، والنداء فیہما، والإقامۃ، رقم الروایۃ ۲،۱/۱۷۷۔ نیز ملاحظہ ہو: مصنف عبد الرزاق، کتاب صلاۃ العیدین، باب الاغتسال في یوم العید، رقم الروایۃ ۵۷۵۳، ۳/۳۰۹؛ ومصنف ابن أبي شیبہ، کتاب الصلوات، في الغسل یوم العیدین، ۲/۱۸۱۔ امام عبد الرزاق اس روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ''وأَنَا أَفْعَلُہُ۔'' [ترجمہ: اور میں بھی[غسل] کرتا ہوں]۔ (المصنف ۳/۳۰۹) امام نوویؒ نے اس روایت کو [صحیح] قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: المجموع ۵/۱۰) ؛ نیز ملاحظہ ہو: زاد المعاد ۱/۱۲۱۔
[3] ملاحظہ ہو: الأوسط ۴/۲۶۴؛ وبدائع الصنائع ۱/۲۷۹؛ والمغني ۳/۲۵۷۔
[4] زاد المعاد ۱/۱۲۱۔