فهرس الكتاب

الصفحة 65 من 90

۲: حافظ ابن حجر نے جبیر بن نفیر کے بارے میں نقل کیا ہے، کہ انھوں نے کہا:

''کَانَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم إِذَا الْتَقَوْا یَوْمَ الْعِیْدِ یَقُوْلُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: ''تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْک۔'' [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب عید کے دن ملاقات کرتے، تو ایک دوسرے سے کہتے تھے: [تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکَ] ۔

نمازِ عید سے پہلے یا بعد نفلی نماز نہ ہونا

نمازِ عید کی صرف دو رکعتیں ہیں۔ ان سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہیں۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بایں الفاظ روایت نقل کی ہے:

''أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم صَلّٰی یَوْمَ الْفِطْرِ رَکْعَتَیْنِ، لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا۔'' [2]

''یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے دن دو رکعت نماز ادا کی۔ اس سے پہلے یا بعد میں کوئی [اور نفلی] نماز نہ پڑھی۔''

البتہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں نمازِ عید کے بعد مستقل نفلی نماز ادا کرنا چاہے، تو ایسا کرنا سنت سے ثابت ہے۔ امام ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:

''کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم لَا یُصَلِّيْ قَبْلَ الْعِیْدِ شَیْئًا۔ فَإِذَا

[2] صحیح البخاري، کتاب العیدین، باب الخطبۃ بعد العید، جزء من رقم الحدیث ۹۶۴، ۲/۴۵۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت