فهرس الكتاب

الصفحة 38 من 90

توفیقِ الٰہی سے اس سوال کا جواب درجِ ذیل دو نکات کے ضمن میں پیش کیا جارہا ہے:

۱: عیدین کے موقع پر سب اہلِ اسلام تکبیرات کہیں۔ مردوں کے علاوہ خواتین بھی تکبیرات کہیں۔ امام بخاری نے نقل کیا ہے:

''وَکَانَتْ مَیْمُوْنَۃُ رضی اللّٰهُ عنہا تُکَبِّرُ یَوْمَ النَّحْرِ، وَکُنَّ النِّسَائُ یُکَبِّرْنَ خَلْفَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رضی اللّٰهُ عنہ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ لَیَالِيَ

التَشْرِیْقِ مَعَ الرِّجَالِ فِيْ الْمَسْجِدِ۔'' [1]

''قربانی کے دن میمونہ رضی اللہ عنہا تکبیر کہتی اور تشریق کی راتوں میں [2] عورتیں ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ [3] اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پیچھے مسجد میں مَردوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں۔''

ب: بیماری کے دنوں والی خواتین بھی تکبیرات کہتی۔ امام بخاری نے حضرت اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے کہا: ''کُنَّا

نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ یَوْمَ الْعِیْدِ، حَتّٰی نُخْرِجَ الْبِکْرَ مِنْ خِدْرِھَا، حَتّٰی نُخْرِجَ الْحُیَّضَ فَیَکُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَیُکَبِّرْنَ بِتَکْبِیْرِہِمْ، وَیَدْعُوْنَ بِدُعَائِہِمْ، یَرْجُوْنَ بَرَکَۃَ ذٰلِکَ الَیْوَمِ وَطُھْرَتَہٗ۔'' [4]

[2] (تشریق کی راتیں) : گیارہ، بارہ، تیرہ ذوالحجہ کی راتیں۔

[3] (ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ ) : یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور عبد الملک بن مروان کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲/۴۶۲) ۔

[4] صحیح البخاري، کتاب العیدین، باب التکبیر أیام منٰی، وإذا غدا إلیٰ عرفۃ، رقم الحدیث ۹۷۱، ۲/۴۶۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت