فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 90

''أَشَھِدْتَّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عِیْدَیْنِ اجْتَمَعَا فِيْ یَوْمٍ وَاحِدٍ؟''

''کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں دو عیدوں [جمعۃ المبارک اور عید الفطر یا عید الاضحی] کو ایک دن میں جمع ہوتے دیکھا؟''

قَالَ: ''نَعَمْ۔''

انھوں نے جواب میں کہا: ''ہاں۔''

قَالَ: ''فَکَیْفَ صَنَعَ؟''

انھوں [معاویہ رضی اللہ عنہ] نے پوچھا: ''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے [اس موقع پر] کیا کیا؟''

قَالَ: ''صَلَّی الْعِیْدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيْ الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: ''مَنْ شَائَ أَنْ یُصَلِّيَ، فَلْیُصَلِّ۔'' [1]

''انھوں نے بتلایا: ''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی، اور جمعہ کے بارے میں رخصت دی، اور فرمایا: ''جو پڑھنا چاہے، وہ پڑھ لے۔''

ب: امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے کہا:

''اِجْتَمَعَ عِیْدَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: ''مَنْ شَائَ أَنْ یَأْتِيَ الْجُمُعَۃَ فَلْیَأْتِہَا، وَمَنْ شَائَ أَنْ یَتَخَلَّفَ، فَلْیَتَخَلَّفْ۔'' [2]

۳: کنز العمال میں ہے، کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خطبہ عید میں فرمایا:

[2] سنن ابن ماجہ، أبواب إقامۃ الصلاۃ، باب ما جاء فیما إذا اجتمع العیدان فيْ یوم، رقم الحدیث ۱۳۰۶، ۱/۲۳۸۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجہ ۱/۲۲۰) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت