فهرس الكتاب
فرمایا:
''قَدِ اجْتَمَعَ فِيْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا عِیْدَانِ۔ فَمَنْ شَائَ أَجْزَأَہُ مِنَ الْجُمُعَۃِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُوْنَ۔'' [1]
''تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہوچکی ہیں۔ اگر کوئی چاہے، تو یہ [نمازِ عید کا ادا کرنا] جمعہ کے ادا کرنے سے اس کی کفایت کرے گا، اور ہم تو یقینا جمعہ ادا کرنے والے ہیں۔''
۲: امام مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:
''کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَقْرَأُ فِيْ الْعِیْدَیْنِ وَفِيْ الْجُمُعَۃِ [سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلیٰ] وَ [ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ] ۔''
قَالَ: ''وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِیْدُ وَالْجُمُعَۃُ فِيْ یَوْمٍ وَاحِدٍ، یَقْرَأُ بِہِمَا أَیْضًا فِيْ الصَّلَاتَیْنِ۔'' [2]
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ میں[سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ
الْأَعْلیٰ]اور [ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ] پڑھا کرتے تھے۔''
انھوں نے [یہ بھی] کہا: ''جب عید اور جمعہ ایک دن اکھٹے ہوجاتے، تو
[2] حوالہ حدیث کے لیے اس کتاب کا ص۵۶ ملاحظہ فرمائیے۔