[29] سفرِ حج وعمرہ پر کسی بھی دن نکل سکتے ہیں ،البتہ مسنون ومستحب دن،جمعرات (صحیح بخاری و مسلم) اور صبح کا وقت ( ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی،بیہقی،ابن ابی شیبہ، مسند احمد) یا پھر کم از کم دوپہر وزوال ِآفتاب کا وقت ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
[30] کسی موحّد،متّبع سنت اور با اخلاق انسان کو اپنا رفیق ِ سفر بنالینا چاہیئے۔ ( بخاری ومسلم)
[31] آغازِ سفر پر گھر میں دورکعتیں پڑھنے کا صحیح احادیث سے ثبوت نہیں ملتا۔ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر وغیرہ والی مرفوع حدیث ضعیف ہے۔ ( سوئے حرم از مؤلف،تخریج:حافظ عبدالرؤف ص ۱۱۰۔۱۱۲) البتہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما والا موقوف اثر سندًا صحیح ہے،جس میں انکا سفر پر نکلنے سے پہلے مسجد میں جاکر دورکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔ (ابن ابی شیبہ و حوالۂ سابقہ) سفر سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں دورکعتیں پڑھ کر گھر میں داخل ہونا ثابت ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
[32] سفر سے واپس آکر گھر میں دن کے وقت یا سرِ شام داخل ہونا چاہیئے۔ ( بخاری و مسلم)
طویل سفر سے واپسی پر اطلاع کئے بغیر رات کو اپنے گھر آنے سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے۔ ( بخاری ومسلم)
اسمیں بہت ہی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ۔ (فتح الباری ۹؍۳۳۹۔۳۴۱)
[33] گھر سے نکلتے وقت یہ دعاء کریں:
(( بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلیٰ اللّٰہِ،وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰهِ ) ) (ابوداؤد،ترمذی،عمل الیوم واللیلہ نسائی)
''اللہ کا نام لیکر اور اس پر توکّل کرکے (گھر سے نکل رہاہوں ) اور اسکی توفیق کے بغیر نہ نیکی کرنے کی ہمّت ہے،نہ برائی سے بچنے کی طاقت۔''