[68] احرام کی حالت میں سر کا ڈھانپنا تو منع ہے،جیسا کہ محرّمات میں ذکر ہوا ہے،البتہ منہ ڈھانپ سکتے ہیں . (فتح الباری ۴؍۵۴۔۵۵،شرح مسلم نووی ۸؍۱۲۶۔۱۲۹،فقہ السنہ ۱؍۶۶۶)
[69] پَچھنے اور سینگی لگوانا یا فصد کروانا جائز ہے (بخاری ومسلم) سر یا جسم کے کسی حصے کو احتیاط کے ساتھ خراش سکتا ہے۔ (بخاری تعلیقًا، مالک و بیہقی موصولًا)
اسکے باوجود اگر کوئی بال گر جائے تو کوئی حرج نہیں . (فتاویٰٰ ابن تیمیہ ۲؍۳۶۸ بحوالہ حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم للالبانی ص۲۷)
[70] بیلٹ،گھڑی،عینک لگانا،پرس باندھنا ، آئینہ دیکھنا، چادر کو گرہ لگانا،عورت کا زیور پہننا اور مرد کا چاندی کی انگھوٹھی پہن لینا جائز ہے۔ (بخاری، مالک ، ابن حزم ،فقہ السنہ ۱؍۶۶۸)
[71] پھول یا کسی بُوٹی کی خوشبو سونگھنا،دانت داڑھ نکلوانا،مرہم پٹی کروانا،ٹوٹے ہوئے ناخن کو اتار کر پھینکنا قابل ِمواخذہ نہیں ہے۔ (بخاری، مؤطا مالک،بیہقی، محلّیٰ ، فقہ السنہ ۱؍۶۶۷) بوقت ِضرورت سر پر کچھ اٹھا لینے سے سر ڈھک جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ (فقہ السنہ ۱؍۶۶۶)
[72] ممکن ہو تو دخولِ مکہ سے قبل کہیں غسل کریں ،دن کو شہرِمکّہ میں داخل ہوں ،اس دن سے پہلی رات مقامِ ذی طویٰ (آبار ِ زاہد) پر گزاریں (بخاری و مسلم)
مکہ میں بالائی جانب (ثنیہ کداء یاثنیہ علیاء) کی طرف سے داخل ہوں اور مکہ کی زیریں جانب سے نکلیں ۔ (بخاری ومسلم) اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی بھی راستہ سے داخل ہوسکتے اور نکل سکتے ہیں ۔ ( ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی،بیہقی،ابن خذیمہ،مسند احمد،مستدرک حاکم)
[73] باب السلام سے ہوتے ہوئے باب بنی شیبہ کے راستے مسجد حرام میں داخل ہوں ۔
(ابن خذیمہ،بیہقی،مستدرک حاکم) مسجدِ حرام میں داخلے کے وقت بھی دایاں قدم پہلے اندر