[166] ہر جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رو کر لیں ،اسے دائیں پہلو پر لٹا لینا چاہیئے۔ (بخاری تعلیقًا موقوفًا،مؤطا مالک و بیہقی موصولًا موقوفًا،ابوداؤد،ابن ماجہ، دارمی، ابن خذیمہ، مسند احمد،بیہقی، مرفوعًا) اور اسکے اوپر والے پہلو پر اپنا پاؤں رکھیں ۔ (بخاری ومسلم)
[167] چُھری چلانے سے پہلے یہ تکبیر وغیرہ پڑھ لیں:
(( بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ) ) (صحیح مسلم)
''اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔''
(( اَللّٰہُمَّ اِنَّ ھَذَا مِنْکَ وَلَکَ ) ) (صحیح مسلم)
''اے اللہ! یہ تیری توفیق سے اور تیری ہی رضا کیلئے ہے۔''
(( اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا ) )
''اے اللہ! اسے ہم سے قبول فرما۔'' (صحیح مسلم)
[168] وہ جانورجو حلال ہیں (الانعام:۱،الحج:۸،۳۴) مثلًابھیڑ،مینڈھا،بکری،بکرا (الانعام:۱۴۳) اُونٹ،اُونٹنی،گائے اوربیل۔ (الانعام:۱۴۴) بھینس اور بھینسے کی قربانی کے جواز وعدم ِجواز میں اختلاف ہے۔ارجح واحوط یہی ہے کہ نہ کی جائے، لیکن اگر کوئی کرتا ہے، تو وہ بھی قابل ِ ملامت نہیں ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ ۱؍۵۲۰ و ہفت روزہ الاعتصام ۸؍نومبر ۱۹۷۴ءمقالہ مولانا عبدالقادر عارف حصاری۔(قائلینِ جواز ِ) فتاویٰ اہلحدیث روپڑی (قائلین ِ عدم ِ جواز) وللتفصیل:المرعاۃ ۳؍۳۵۳۔۳۵۴ الاعتصام،عید الاضحیٰ نمبر ۱۹۸۶ء مقالہ حافظ صلاح الدین یوسف)
[169] سب سے افضل قربانی اُونٹ ،پھر گائے، پھر مینڈھا (یا دنبہ) اور بکرا ہے۔ ( بخاری و مسلم و للتفصیل: الفتح الربانی ۶؍۵۷ ،۱۳؍۶۶۔۶۷)