فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 55

بھی ممکن ہو کر لیں ،پوری مسجد ِحرام (اور اسکی سب منزلوں ) میں طواف صحیح و جائز ہے۔ (التحقیق والایضاح للشیخ ابن باز ص۳۱)

[87] اگر طواف کے چکروں میں شک ہو جائے تو تھوڑی تعداد پر اعتماد کر کے باقی تعداد کو پورا کرلیں ۔ (حوالۂ سابقہ)

[88] پیدل طواف افضل ہے، مگر کسی ضرورت و مجبوری کے تحت سوارہو کرطواف کرنا بھی جائز ہے۔ ( بخاری و مسلم)

[89] طواف کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور نہ ہی طواف والی دورکعتوں کا کوئی وقت ِکراہت ہے،وہ بھی ہر وقت پڑھی جاسکتی ہیں ۔ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،ابن خذیمہ،بیہقی،دارقطنی،مسند احمد،ابو یعلیٰ،مستدرک حاکم)

[90] استحاضہ (عورت کو خون کا قطرہ آتے رہنا) بواسیر،سلسل ِبول (پیشاب) اور سلسل ِ ریح (ہوا) کی بیماری والے طواف و نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ ( بخاری و مسلم، فقہ السنہ ۱؍۶۹۶)

[91] دوران ِ طواف نماز کا وقت ہو جائے یا بول و براز کی حاجت ہو جائے تو اپنی نمازسے فارغ ہو کر جہاں سے طواف چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرلیں ۔ (بخاری مع فتح الباری ۳؍۴۸۴ المغنی ۳؍۳۵۵،فقہ السنہ ۱؍۶۹۸)

[92] طواف کے سات چکروں سے فارغ ہو کر مقام ِ ابراہیم علیہ السلام پر آجائیں اور یہ پڑھیں:

{وَاتَّخِذُوْامِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی} (البقرہ:۱۲۵)

''اور مقام ابراہیم علیہ السلام کو جائے نماز بناؤ۔''

مقام ِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھ کر (صحیح مسلم) دو رکعت نماز پڑھیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت