الصفحة 40 من 49

تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروںکو فتح نصیب ہو تو ان سے کہتے ہیں کہ کیاہم تم پر غالب نہیں تھے ،اور تم کو مسلمانوں ( کے ہاتھوں) سے بچایا نہیں ۔تو اللہ تم میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کو مؤمنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔

(۷)ز یار تو ں اور ملاقا تو ں کا تسلسل

مسلمانوں کا ایک دوسرے کی زیارت کرتے رہنا ،ملاقات کی چاہت رکھنا،اور مل جل کر بیٹھنے کا شوق رکھنا ،باہمی محبت کی دلیل ہے ۔

ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[ وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ۔۔۔وفی حدیث آخر ۔۔۔اَنَّ رَجُلًا زَارَ اَخًا لَّہٗ فِی اللّٰہِ فَأَ رْصَدَ اللّٰہُ عَلٰی مَدْ رَجَتِہٖ مَلَکًا ، فَسَأَ لَہٗ اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ أَزُوْرُ اَخًا لِیْ فِی اللّٰہِ ۔ قَالَ ھَلْ لَکَ عَلَیْہِ مِنْ نِعْمَۃٍ تُرِبُّھَا عَلَیْہِ ؟ قَالَ: لَا ،غَیْرَ اَنِّیْ اَحْبَبْتُہٗ فِی اللّٰہِ قَالَ فَانِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکَ بِاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَہٗ فِیْہِ ] [1]

ترجمہ:محض میری رضا کی خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والے والوں کے لئے میری محبت واجب ہوجاتی ہے ۔

ایک اور حدیث میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[ایک آدمی محض اللہ تعالیٰ کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت