فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 231

اعتدال ربیعی و خریفی (Equinox) کے نام سے معروف ہیں، ایسے ہیں جب سورج عین مشرق سے طلوع ہوتا ہے،یعنی خط استوا پر سفر کرتا ہے۔ باقی تمام دنوں میں عین مشرق سے قدرے شمال یا قدرے جنوب کی طرف ہٹ کر طلوع ہوتا ہے۔ موسم گرما کے دوران میں22جون کو سورج مشرق کی ایک انتہا سے نکلتا ہے (خط سرطان پر سفر کرتا ہے) تو موسم سرما میں بھی ایک خاص دن، یعنی 22دسمبر کو سورج مشرق کی دوسری انتہا سے نکلتا ہے (خط جدی پر سفر کرتا ہے) ۔ اس طرح سورج موسم گرمامیں (22جون) اور موسم سرما میں (22دسمبر) کو مغرب میں دو مختلف انتہاؤں پر غروب ہوتا ہے۔ [1] فطرت کا یہ مظاہرہ کسی بھی شہر میں رہنے والے لوگ بآسانی دیکھ سکتے ہیں یاکسی بلند و بالا عمارت سے سورج کے اس طلوع و غروب کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظارہ کرنے والے لوگ دیکھیں گے کہ سورج گرمیوں میں 22جون کو مشرق کی ایک انتہا سے نکلتاہے تو سردیوں میں 22دسمبر کو ایک دوسری انتہا سے۔ مختصر یہ کہ سارا سال سورج مشرق کے مختلف مقامات سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف مقامات پر غروب ہوتا رہتا ہے، لہٰذا جب قرآن اللہ کاذکر دومشرقوں اور دو مغربوں کے رب کے طورپر کرتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق اور مغرب دونوں کی دونوں انتہاؤں کا رب اور مالک ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت