فهرس الكتاب

الصفحة 17 من 99

شرک سے اجتناب :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ} (سورۃ الأنعام:۸۲)

'' جو لوگ ایمان لائے ، پھر اپنے ایمان کو ظلم ( شرک ) سے آلودہ نہیں کیا ، انہی کیلئے امن وسلامتی ہے ، اور یہی لوگ راہِ راست پر ہیں۔''

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ} تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر بہت گراں گذری ، چنانچہ انہوں نے کہا: ہم میں سے کون ہے جس نے (گناہ اور معصیت کے ذریعے ) اپنی جان پر ظلم نہیں کیا ؟ اس پرنبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَیْسَ ہُوَ کَمَا تَظُنُّوْنَ ، إِنَّمَا ہُوَ کَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِاِ بْنِہٖ { یَٰا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ } [1]

'' اس سے مراد وہ نہیں جیسا کہ تم گمان کر رہے ہو ، بلکہ اس سے مراد ( شرک ہے) جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ ''

معاصی سے اجتناب:

اسی طرح معاصی ( اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں ) سے اجتناب کرنا بھی ایمان میں شامل ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلاَ یَسْرِقُ السَّارِقُ حِیْنَ یَسْرِقُ وَہُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا یَشْرَبُ الْخَمْرَحِیْنَ یَشْرَبُہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ ) ) [2]

[2] بخاری: ۲۴۷۵ ، مسلم: ۵۷

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت