فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 99

''جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہوجائے گی۔''

۷) الحآقّۃ (ثابت ہونے والی) ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:

{ اَلْحَآقَّۃُ علیہم السلام مَا الْحَآقَّۃُ } (سورۃ الحاقۃ:۱،۲)

''ثابت ہونے والی، وہ ثابت ہونے والی کیا ہے؟''

۸) الصآخّۃ (کان بہرے کر دینے والی) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{ فَإِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ } (سورۂ عبس: ۳۳)

''پس جب کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی۔''

۹) الغاشیۃ (چھپالینے والی) ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:

{ ہَلْ أَتٰاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ } (سورۃ الغاشیۃ: ۱)

''کیا آپ کے پاس چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے۔''

یاد رہے کہ آخرت پر ایمان لانا دو طرح کا ہے: (۱) اجمالی (۲) تفصیلی

(۱)اجمالی ایمان:

اجمالی ایمان یہ ہے کہ ہم اس دن پر ایمان لائیں جس میں اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے اور بعد میں آنے والوں ، سب کو جمع کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا، پھر ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا اور دوسرا جہنم میں۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{ قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ علیہم السلام لَمَجْمُوْعُوْنَ إِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ }

(سورۃ الواقعۃ: ۴۹، ۵۰)

''آپ کہہ دیجییٔ کہ یقینا سب اگلے اور پچھلے ضرور ایک مقررہ دن کے وقت جمع کییٔ جائیں گے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت