'' میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے اورزکوٰۃ لیکر آئے گا ، اور اس نے کسی کو گالی دی ہو گی ، اور کسی پر بہتان باندھا ہو گا ، اور کسی کا مال کھالیا ہو گا ، اور کسی کا خون بہایا ہو گا ، اور کسی کو مارا ہو گا ، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کو اس کے حق کے بقدر اس کی نیکیاں دی جائیں گی ، اور اگر ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ لیکر اس پر ڈال دئیے جائیں گے ، اورپھر اسے جہنم رسید کردیا جائے گا ۔''
ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن حوضِ کوثر عطا کیا جائے گا ، جس کے اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں یوں بیان فرمائے ہیں:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اونگھ طاری ہو گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ، ہم نے پوچھا: آپ کیوں مسکرارہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔'' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا:
{بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ إِنَّآ أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ}
''شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ''
'' (اے محمد !) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے ۔ تو اپنے پروردگار کے لییٔ نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔''
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''کیا تمھیں معلوم ہے کہ الکوثر کیا ہے ؟ ''ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ