اسی طرح سورۂ بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ فَأَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلََمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ} (سورۂ بقرۃ: ۵۹)
'' پھر ہم نے ان لوگوں پر آسمان سے ان کے گناہوں کے سبب عذاب نازل کیا جنہوں نے ظلم کیا '' ۔
اور توبہ واستغفار کے فوائد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۂ نوح میں فرماتا ہے:
{فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًاo یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا o وَّیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْہَارًا} (سورۂ نوح: ۱۰تا۱۲)
''پس میں ( نوح نے) کہا: تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو ، بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، اور مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا ، اور تمھارے لیئے باغات پیدا کرے گا ، اور نہریں جاری کردے گا '' ۔
ان آیات میں استغفار کے جو فوائد ذکر کییٔ گئے ہیں ( موسلا دھار بارشیں، مال واولاد سے مدد ، باغات او ر نہریں ) یہ سب چیزیں در اصل انسانوں کی خوشحالی وسعادتمندی کی علامت ہوتی ہیں، اور یہ استغفار ہی سے نصیب ہوتی ہیں۔
اسی طرح سورۂ انفال میں ارشاد فرمایا:
{ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ} (سورۂ انفال: ۳۳)
'' اور اللہ تعالیٰ انہیں اس حال میں عذاب نہیں دیتا کہ وہ استغفار کر رہے ہوں '' ۔
نیزسورۂ ھود میں فرمایا: