خوشگوار زندگی کے حصول کے متعدد اصول ہیں جن میں سے صرف بارہ 12 اصول ہم یہاں آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
پہلا اصول: ایمان وعمل
خوشگوار زندگی کا پہلا اصول '' ایمان وعمل '' ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ }
(سورۃ النحل: ۹۷ )
'' جو شخص نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ایمان والا ہو ، تو اسے ہم یقینا بہت ہی اچھی زندگی عطا کریں گے ، اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے '' ۔
اورسورۃ الرعد میں فرمایا:
{ اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ طُوْبیٰ لَہُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ}
(سورۃ الرعد: ۲۹)
'' جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ، ان کیلئے خوشحالی بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی '' ۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے شخص کو بہت ہی خو شگوار وکامیاب زندگی اور خوشحالی عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ، جس میں دو شرطیں پائی جاتی ہوں، ایک یہ کہ وہ مومن ہو ، اور دوسری یہ کہ وہ عمل صالح کرنے والا ، باکردار اور بااخلاق ہو ، اور اگر ہم ان دونوں شرطوں کو پورا کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں خوشگوار زندگی نصیب نہ ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے