لَنَعُدُّہَا عَلیٰ عَہْدِ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم الْمُوْبِقَاتِ ) ( البخاری ۔ الرقاق باب ما یتقی من محقرات الذنوب: ۶۴۹۲)
'' آج تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمھاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک (بہت چھوٹے ) ہیں، جبکہ ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہلاک کرنے والے گناہ شمار کرتے تھے '' ۔
یہ تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے دور کی بات ہے ، جو کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کے بعد بہترین دور تھا ، اور آج ہمارے دور میں اللہ جانے کیا کچھ ہوتا ہے ، بس اللہ کی پناہ !
کامیاب اور خوشحال زندگی کے حصول کا چھٹا اصول '' نماز '' ہے ، جو کہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے صحیح مسلم شریف میں رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
{ أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہٖ وَہُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ }
(مسلم: ۴۸۲)
'' بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا تم ( سجدے کی حالت میں ) زیادہ دعا کیا کرو '' ۔
جب بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے ، تب وہ جو چاہے اس سے طلب کر سکتا ہے ، اور اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ،سورۂ بقرہ میں فرمانِ الٰہی ہے:
{ یَٰٓأَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ } (سورۃ البقرۃ: ۱۵۳)
'' اے ایمان والو ! ( جب کوئی مشکل درپیش ہو تو ) صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو ، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے '' ۔