8.مروء ت کو اپناؤ: [1]
طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مروء ت اور ان بہترین اخلاق سے آراستہ کرے جو مروء ت اختیار کرنے کا باعث ہوں، مثلًا: خندہ پیشانی، سلام کو عام کرنا، لوگوں کو برداشت کرنا، تکبر کے بغیر خود داری، جبر و زیادتی کے بغیر عزت، تعصب کے بغیر عزتِ نفس اور جاہلیت کے بغیر تپشِ شوق۔ مزید برآں اخلاق و اقوال اور اعمال میں مروء ت کا خاتمہ کر دینے والی چیزوں سے کنارہ کش رہے، مثلًا: توہین آمیز پیشہ، خصلتِ بد، غرور و تکبر، ریا کاری، اکڑفوں، دوسروں کی حق تلفی، دوسروں کو حقیر سمجھنا اور کردار کو مشکوک کر دینے والی جگہوں پر آنا جانا وغیرہ۔
9.مردانہ خصائل کو اختیار کرنا:
طالب علم کو مردانہ خصائل سے مالا مال ہونا چاہیے، مثلًا: بہادری، رزمِ حق و باطل میں حق کی مکمل حمایت، کریمانہ اخلاق، نیکی کی راہ میں اتنا خرچ کرنا کہ لوگوں کی امیدیں تجھ سے منقطع ہو جائیں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ان خصائل کے متضاد خصائل سے احتراز کرے، مثلًا: کم حوصلگی، بے صبری اور اخلاقی کمزوری، اس لیے کہ ان کے ہوتے ہوئے علم کا حق ادا نہیں ہوتا اور زبان حق کہنے سے رک جاتی ہے۔ یہ صفات اپنے حامل کو پیشانی سے پکڑ کر دشمنوں کے آگے اس حال میں ڈال دیتی ہیں کہ ان کی بادِ سموم نیک لوگوں کے چہروں کو جھلسا دیتی ہے۔
10.عیش و آرام سے دوری:
عیش و آرام کے معاملے میں بالکل بے لگام نہ ہو جا کہ پراگندہ حالی ایمان کا