فهرس الكتاب

الصفحة 48 من 108

امام ابو حیان اکثر گنگنایا کرتے تھے:

یَظُنّ الغَمْرُ أن الکتبَ تَھْدِيْ أَخَا فھمٍ لإِدرَاک الْعُلُوْمٖ

وَمَا یَدْرِيْ الْجَھُوْلُ بِأَنَّ فِیْھَا غَوَامِضَ حَیَّرَتْ عَقْلَ الْفَھِیْمٖ

إِذَا رُمتَ الْعُلُوْمَ بِغَیْرِ شَیْخٍ ضَلَلْتَ عَنِ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمٖ

وَتَلْتَبِسُ الْأُمُوْرُ عَلَیْکَ حَتیً تَصِیْرَ أَضَلَّ مِنْ ''تُوما الحکیمٖ''

''1 ناتجربہ کار طالب علم کا خیال ہے کہ کتابیں حصولِ علم میں کسی سمجھ دار آدمی کی راہنمائی کر سکتی ہیں۔ 2 لیکن وہ نادان یہ نہیں جانتا کہ کتابوں میں کئی ایسے پیچیدہ نکات ہوتے ہیں جو کسی سمجھ دار کی عقل کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔ 3 اگر تو بغیر استاد کے حصولِ علم کا ارادہ کرے گا تو راہِ راست سے بھٹک جائے گا۔ 4 جملہ امور تجھ پر یوں گڈ مڈ ہو جائیں گے کہ تو تُوما حکیم سے بھی گمراہ تر ہو جائے گا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت