فهرس الكتاب

الصفحة 102 من 247

تحریک اہلحدیث کا تاریخی مؤقف اور اُس کی خدمات

دنیا میں اچھی اور بری تحریکیں پیدا ہوتی اور مٹتی رہی ہیں۔ بعض تحریکات کی قوت سے حکومتیں تک متزلزل ہو گئیں۔ ۔۔۔حسن بن صباح اور حشیشین کا اتنا رعب تھا کہ بادشاہ رات کو اپنی آرام گاہوں میں سو نہیں سکتے تھے۔

صالح تحریکوں کا اثر بھی صدیوں تک دلوں کو متاثر کرتا رہا۔ طوعًا و کرہًا لوگ ان تحریکوں سے بہرحال تعاون کرتے رہے۔

تحریک معتزلہ نے مامون الرشید ایسے دانشمند بادشاہ کو بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور یہ فتنہ متوکل علی اللہ کے زمانہ تک ائمہ سنت کے لیے وبال جان بنا رہا۔ امام احمد اور عبدالعزیز کنانی ایسے اہل حق حضرات حق گوئی کی وجہ سے مصائب میں مبتلا رہے۔ بڑے بڑے ائمہ نے فاز احمد و خسرنا کہہ کر حالات کی ناہمواری کا اعتراف فرمایا رحمہم اللہ۔

تحریک اھلحدیث

یہ بھی اپنے وقت کی ایک تحریک ہے جس کا مقصد

(1) اسلام میں اعتقادی اور عملی سادگی کو قائم رکھنا اور افراط و تفریط میں اعتدال کی راہ کا تعیّن اور اس کی پابندی کرنا

(2) محبت اور بغض میں عمومًا انسان اعتدال کی حدوں کو پھاند جاتا ہے، ائمہ حدیث ایسے موقع پر ہمیشہ نقطہ اعتدال کی تلاش فرماتے اور لوگوں کو اس سے آگاہ فرماتے

(3) قرآن و سنت اور ان کے متعلقہ علوم کی تدوین و اشاعت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت