بر سر پیکار ہوگئے۔ ہر ایک نے یہی سمجھا کہ حق حقیقتًا ہمارے ہاں فروکش اور تشریف فرما ہے۔ باقی ائمہ کی صداقت صرف ایک ظن ہے۔ حضرت علامہ علاؤ الدین حصکفی در المختار میں اشباہ والنظائر کے حوالہ سے فرماتے ہیں:
وفيها إذا سئلنا عن مذهبنا ومذهب مخالفنا قلنا وجوبا مذهبنا صوابا يحتمل الخطأ ومذهب مخالفنا خطأ يحتمل الصواب، إذا سئلنا عن معتقدنا ومعتقد خصومنا قلنا وجوبا الحق ما نحن عليه والباطل ما عليه خصومنا. اھ
جب ہمیں اپنے اور اپنے مخالف کی بابت پوچھا جائے تو ہم کہیں گے کہ ہم یقینًا حق پر ہیں احتمال ہے کہ ہمارا خیال غلط ہوجائے۔ ہمارا مخالف یقینًا خطا پر ہے، ممکن ہے اس کا خیال درست ہو۔ لیکن عقائد کے معاملہ میں ہم یقینا حق پر ہیں اور ہمارے مخالف غلطی اور باطل پر ہیں۔
حالانکہ عقائد میں پورا استدلال تاویل کا ایک نظر فریب جال ہے۔
ائمہ اربعہ کو حق پر ماننے کے بعد فکر کا یہ انداز یقینًا مستحسن نہیں ہے۔ جب ائمہ اجتہاد کے متعلق معلوم ہے کہ وہ پیغمبر نہیں ہیں۔ بلکہ ان کوششیں مخلصانہ ہیں تو اس تنگ نظری سے کیال حاصل؟ لیکن تقلید وجمود کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ شخصی محبت میں افراط کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخالف کے متعلق تفریط کرے۔ اس کے محاسن کو بھی عیب کی نظر سے دیکھے۔ تقلید وجمود میں یہ بڑی ہی عیب ناک چیز ہے۔ اس میں عصبیت اور سوء ادب سے بچنا سخت مشکل ہے۔ تعجب ہے کہ یہ حضرات خود از بس بے ادب ہیں لیکن الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔
حضرت امام شافعی کی ذہانت اور علمی رفعت کی بناء پر کوشش فرمائی گئی کہ انہیں اپنا شاگرد ظاہر کیا جائے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ علم امانت ہے جہاں سے ملے لے لینا چاہئے۔ امام شافعی نے یقینًا اپنے وقت کے اکابر سے علم حاصل کیا۔ فقہ اور حدیث دونوں اپنے وقت کے کامل اساتذہ سے سیکھے۔ چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی ذکر فرماتے ہیں کہ امام شافعی امام محمد کے تلامذہ سے تھے۔
ومن تلامذته الشافعي رضي الله عنه وتزوج بأم الشافعي وفوض إليه كتبه
امام شافعی امام محمد کے شاگرد تھے۔ امام محمد نے امام شافعی کی والدہ سے نکاح کیا اور اپنی