فهرس الكتاب

الصفحة 120 من 275

(4) ۔ ان عمارتوں کے ساتھ بیت الخلا ہوا کرتے ہیں، حالانکہ مسلمان کی قبر سے نجاست دور رکھنی چاہیے۔

(5) ۔ ایسا کرنا، قبروں کو مساجد قرار دے لینا ہے، حالانکہ یہ حرام ہے۔ [1] جیسا کہ مذکور ہوچکا ہے۔

(6) ۔ قبروں پر روشنی کی جاتی ہے، حالانکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کے مرتکب پر لعنت کی ہے۔ [2]

(7) ۔ ایسا کرنے سے بہت سے افعال واقوال اور طریقوں میں اہل کتاب سے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔

[2] سنن أبی داود، الجنائز، باب فی زیارۃ النساء القبور، حدیث: 3236و جامع الترمذی، الصلاۃ، باب ماجاء من کراہیۃ أن یتخذ علی القبر مسجدا، حدیث: 320وسنن النسائی، الجنائز، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور2045، مسند أحمد: 337,324,287,229/1۔ اس کی سند میں ابوصالح باذان راوی ہے جو جمہور کے ہاں ضعیف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت