اسی طرح مصر میں حضرت نفیسہ وغیرہ کی قبریں، عراق میں وہ قبر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سمجھی جاتی ہے نیز حضرت حسین، حذیفہ بن یمان، سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اور موسیٰ بن جعفر، محمد بن جواد، احمد بن حنبل، معروف کرخی،با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہم جیسے صالحین کی قبر وں پر جو اجتماع ہوتے ہیں سب اسی حکم میں داخل ہیں۔ [1] بدعتیوں نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ بہت سی قبروں پر مسجدیں بھی بنادی ہیں، جن میں سے بعض غصب شدہ زمین پر تعمیر کی گئی ہیں۔ [2]
یہ صالحین رحمۃ اللہ علیہم اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے محبت کی جائے، ان کی پیروی کی
[2] مصر میں اکثر مساجد قبروں پر بنائی گئی ہیں۔