سوال ہوسکتا ہے کہ یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ فلاں واقعہ کسی خاص سبب سے پیش آیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ طبیعی امور کی طرح شرعی امور میں بھی اس کے معلوم کرنے کے متعدد طریقے ہیں اور ان میں سے ایک ہے، مجبوری کا پیش آجانا۔ [1]
چنانچہ عہد نبوی میں لوگ بارہا بھوکے پیاسے ہوئے۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑے سے پانی میں دست مبارک رکھ دیا اورآپ کی انگلیوں سے پانی کے فوارے پھوٹنے لگے۔ [2] اسی طرح تھوڑے سے کھانے میں ہاتھ رکھ دیا اور بے حدفراوانی ہوگئی۔ [3] اسی طرح کے واقعات میں لامحالہ یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ کھانے اور پانی میں زیادتی محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے ہوئی۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ اگر کسی شخص پر تلوار کی شدید ضرب پڑے اور وہ
[2] صحیح البخاری، المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، حدیث: 4152و صحیح مسلم، الزہد، باب حدیث جابر الطویل…، حدیث:3013
[3] صحیح البخاری، الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام … الخ، حدیث:2484و صحیح مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا، حدیث:27