فهرس الكتاب

الصفحة 197 من 275

توہین وتحقیر ہو بلکہ اس سے مقصود تو ان بزرگوں کی تعظیم وتکریم ہی ہوتی ہے۔ [1]

جب دلوں پر بدعت کا قبضہ ہوجائے

حقیقت یہ ہے کہ جب دلوں پر بدعت کا قبضہ ہوجاتا ہے تو ہدایت وسنت کی ان میں گنجائش نہیں رہتی۔ مشاہدہ اس حقیقت کو پوری طرح ثابت کررہا ہے۔ بدعتی لوگ خود انھی بزرگوں کی سنت پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جن کی قبروں کی پرستش اتنے ذوق وشوق سے کرتے ہیں، حالانکہ کسی نبی یا ولی کی تعظیم کا صحیح طریقہ یہ نہیں کہ اس کی قبر پر جھاڑو لگایا جائے اور اس پر سجدے کیے جائیں، بلکہ صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کیا جائے تاکہ اسے ان پیروی کرنے والوں کے نیک اعمال پر ثواب حاصل ہو۔ جیسا کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو کوئی کسی ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اسے ان لوگوں کے ثواب کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔'' [2]

لیکن ان لوگوں کے دلوں پر بدعتی عبادتیں حاوی ہوگئی ہیں۔ کوئی خودساختہ دعاؤں میں

[2] صحیح مسلم، العلم، باب من سنَّ سنّۃ حسنۃ أو سیئۃ … الخ، حدیث:2674

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت