فهرس الكتاب

الصفحة 234 من 275

پر کھڑے ہوں۔'' [1]

اور فرمایا:

{اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ}

''تو ان کے لیے استغفار کر یانہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کرے تو بھی اللہ انھیں ہر گز نہ بخشے گا۔'' [2]

اس وحی کے بعد آپ نے فرمایا: ''اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ستر مرتبہ سے زیادہ دعا کرنے سے ان کی مغفرت ہوجائے گی تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔ [3] اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

{سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ}

''چاہے تم ان لوگوں کے حق میں مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، اللہ انھیں ہر گز نہ بخشے گا۔'' [4]

اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ دیکھو۔ انھوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے لیکن جب انھیں معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو اس سے براء ت کا اعلان کردیا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے:

{مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ 113} وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ

[2] التوبۃ 80:9

[3] صحیح البخاری، التفسیر، تفسیر سورۂ براء ۃ، باب: 12، حدیث: 4671

[4] المنافقون 6:63

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت