حُرمتِ ساز و آواز پر ہی ایک چوتھی آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جو کہ سورۃ الفرقان کی آیت:۷۲ ہے،جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ وَ اِذَا مَرُّوْا بِالَّلغْوِ مَرُّوْا کِرَامًاo}
''اور (عبادُ الرحمن میں وہ بھی شامل ہیں) جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو و بیہودہ چیز کے پاس سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔''
مقاماتِ ساز و آواز:
اس آیت میں {وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ} کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے البتہ محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ لغو و بیہودہ کاموں اور گانے بجانے کے مقامات و مواقع پر شرکت نہیں کرتے۔غرض بقولِ علّامہ ابن قیم:
''سلفِ امت نے الزُّوْر کی تفسیر گانے اور تمام باطل امور سے کی ہے۔'' [1]
اور {وَ اِذَا مَرُّوْا بِالَّلغْوِ مَرُّوْا کِرَامًاo} کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کسی لغو و بیہودہ کام والی جگہ پر حاضر نہیں ہوتے اور اگر کبھی اتفاق سے انہیں ایسی جگہ سے گزرنا ہی پڑے تو نہایت مہذّب و شریفانہ انداز سے انہیں نظر انداز کیٔے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ [2]
پانچویں آیت:
گانا بجانا خصوصًا ساز و موسیقی کے حرام ہونے کی دلیل کے طور پر ایک پانچویں آیت بھی پیش کی جاسکتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کفّار کے بارے میں سورۃ الانفال،آیت:۳۵میں فرمایا ہے:
[2] ابن کثیر ۳؍۲۸۳۔