معروف شخصیّت اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(صَوْتَانِ مَلْعُوْنَانِ:مِزْمَارٌ عِنْدَ نِعْمَۃٍ وَ رَنَّۃٌ عِنْدَ مُصِیْبَۃٍ) [1]
'' دو آوازیں بڑی لعنتی ہیں ؛ نعمت و خوشی کے موقع پر گانا بجانا اور مصیبت کے وقت چیخ و پکار اور بَین کرنا۔''
اور یہی بات ایک صحیح حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آئی ہے جو متعلقہ احادیث کے ضمن میں [دوسری حدیث کے تحت] ذکر کی جاچکی ہے۔
9۔اثرِ ثانی:
مصنف ابن ابی شیبہ میں ایسی دفیں جو شادی کے علاوہ دیگر مواقع پر بجائی جانے والی ہوں،انکے بارے میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
(لَیْسَ الدُّفُوْفُ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِيْ شَيئٍ،وَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللّٰہِ [اِبْنِ مَسْعُودٍ] کَانُوْا یُشَقِّقُوْنَہَا) [2]
''یہ دفیں (جو بے موقع بجائی جائیں) مسلمانوں کے طریقہ میں سے نہیں ہیں،اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھی انھیں توڑدیا کرتے تھے۔''
10۔اثرِ قاضی شریح رحمہ اللہ:
مصنف ابن ابی شیبہ میں صحیح سند کے ساتھ،نیز سنن کبریٰ بیہقی اور الامر بالمعروف خلال میں ابو حصین بیان کرتے ہیں:
(اَنَّ رَجُلًا کَسَرَ طَنْبُوْرَ رَجُلٍ فَخَاصَمَہٗ اِلیٰ شُرَیْحٍ،فَلَمْ یُضَمِّنْہُ شَیْئًا) [3]
[2] ابن ابی شیبہ ۹؍۵۷
[3] مصنف ابن ابی شیبہ ۷؍۳۱۲؍۳۲۷۵ ، بیہقی ۶؍۱۰۱ ، الامر بالمعروف ص:۲۶