فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 90

جیسا کہ امام شوکانی نے نیل الاوطار [1] میں،امام ابن تیمیہ نے منہاج السنہ [2] میں اور علّامہ ابن قیم نے اغاثۃ اللہفان [3] میں تفصیلات ذکر کی ہیں۔

بعض اہلِ مدینہ،بعض اہلِ ظاہر اور صوفیہ محفلِ سماع کی رخصت دیتے ہیں جس سے شک گزر سکتا ہے کہ شاید امام مالک رحمہ اللہ بھی انہی میں سے ہونگے اور سارے اہلِ مدینہ بھی ایسے ہی کہتے ہونگے جبکہ ایسا نہیں ہے۔امام مالک کے نزدیک یہ ساز و آواز حرام ہیں جیسا کہ انکا قول آگے آرہا ہے۔

اہلِ مدینہ میں سے امام مالک رحمہ اللہ کے بقول صرف فاسق و فاجر لوگ ہی اس کے قائل تھے۔

کہاں کتاب و سنت اور سلفِ امت اور کہاں فاسق و فاجر لوگوں کا فعل؟

غرض اگر کسی نے ان تمام کے خلاف کوئی رائے قائم کی یا عمل کیا تو اسکی طرف التفات نہیں کیا جائے گا،کیونکہ کتاب و سنت اور خصوصًا اسوہ و فیصلۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی بات نہیں سنی جائے گی،جیسا کہ سورۃ النسآء،آیت:۶۵ کا تقاضا ہے جس میں ارشادِ الٰہی ہے:

{فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتَّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ أَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیمًا o}

'' [اے نبی!] آپ کے پروردگار کی قسم!یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں آپ کو مُنصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کردیں،اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اسے خوشی سے مان لیں،تب تک یہ مؤمن نہیں ہونگے۔''

[2] منہاج السنہ ۳؍۴۳۹

[3] اغاثۃ اللہفان ۱؍۲۲۶۔۲۳۰

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت