فهرس الكتاب
الصفحة 262 من 357
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ طائف سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے تو شہر کے قریب حراء پہاڑ تک پہنچ کر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ کفار قریش پہلے سے بھی زیادہ آپ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ انھیں اہل طائف کے ظالمانہ سلوک کا علم ہو چکا ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ کسی کی پناہ حاصل کرکے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں۔
کفار مکہ کی خامیاں اپنی جگہ مگر ان کے ہاں پناہ دینے کا قانون موجود تھا۔ اگر کوئی بڑا شخص کسی کو پناہ
حجم الخط: