فهرس الكتاب

الصفحة 264 من 357

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو مطعم کے بیٹے اور قوم کے لوگ ہتھیار پہن کر کھڑے تھے۔ مطعم اپنی سواری کے اونٹ پر کھڑا ہوگیا اور بلند آواز سے اعلان کیا:قریش کی جماعت! میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دے دی ہے، لہٰذا کوئی ان کی ہجو نہ کرے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس تشریف لائے، اسے بوسہ دیا، دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اس دوران میں مطعم اور اس کے بیٹوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے حفاظتی گھیرے میں لے رکھا تھا۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مطعم کے پناہ دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ رات اسی کے ہاں گزاری۔ صبح کے وقت اس کے چھ یاسات بیٹے اپنی گردنوں میں تلواریں لٹکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور مسجد الحرام میں داخل ہوئے۔ کہنے لگے:آپ طواف کیجیے! وہ اپنی تلواروں کے پٹے لپیٹ کر، خوب چاق وچوبند ہو کر مطاف میں بیٹھ گئے۔یہ منظر دیکھ کرابوسفیان یا ابوجہل دونوں میں سے کوئی ایک مطعم کے پاس آیا۔ پوچھا:تم نے انھیں پناہ دی ہے یا ان کے پیرو کار بن گئے ہو؟

مطعم نے جواب دیا:صرف پناہ دی ہے۔

ابوسفیان کہنے لگا:پھر تم سے بے وفائی نہیں کی جائے گی۔

ابوسفیان مطعم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس دوران میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کر لیا۔ جب آپ واپس تشریف لے جانے لگے تو سبھی آپ کے ساتھ آپ کے گھر تک گئے۔ ابو سفیان اپنی مجلس کی طرف چلا گیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت