البتہ اسے اس مقصد کے لیے یہ عہد وپیمان کرنا پڑا کہ اگر قریش نے محمد کو ختم کیے بغیر واپسی کی راہ لی تو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے قلعے میں داخل ہوجاؤں گا۔ پھر جو انجام تمہارا ہوگا وہی میرا بھی ہو گا۔ حیی کے اس پیمان ِ وفا کے بعد کعب بن اسد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑدیا۔
اور مسلمانوں کے ساتھ طے کی ہوئی ذمے داریوں سے بری ہو کر ان کے خلاف مشرکین کی جانب سے جنگ میں شریک ہوگیا۔ [1]
اس کے بعد بنو قریظہ کے یہود عملی طور پر جنگی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت صفِیّہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فارغ نامی قلعے کے اندر تھیں۔ حضرت حسان عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں تھے۔ حضرت صَفِیّہ کہتی ہیں: ہمارے پاس سے ایک یہودی گزرا اور قلعے کا چکر کاٹنے لگا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بنو قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد وپیمان توڑ کر آپ سے برسرپیکار ہوچکے تھے۔ اور ہمارے اور ان کے درمیان کوئی نہ تھا جو ہمارادفاع کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سمیت دشمن کے مدِّ مقابل پھنسے ہوئے تھے۔ اگرہم پر کوئی حملہ آور ہوجاتا تو آپ انہیں چھوڑ کر آنہیں سکتے تھے۔ اس لیے میں نے کہا: اے حسان ! یہ یہودی …جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں قلعے کا چکر لگا رہا ہے۔ اور مجھے اللہ کی قسم! اندیشہ ہے کہ یہ باقی یہود کو بھی ہماری کمزوری سے آگاہ کردے گا۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ ہماری مدد کو نہیں آسکتے۔ لہٰذا آپ جائیے اور اسے قتل کردیجیے۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! آپ جانتی ہیں کہ میں اس کام کا آدمی نہیں۔ حضرت صفیہ کہتی ہیں: اب میں نے خود اپنی کمر باندھی۔ پھر ستون کی ایک لکڑی لی۔ اور اس کے بعد قلعے سے اتر کر اس یہودی کے پاس پہنچی۔ اور اسے لکڑی مار مار کر اس کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد قلعے میں واپس آئی اور حسان سے کہا:جایئے اس کا ہتھیا ر اور اسباب اتار لیجئے۔ چونکہ وہ مردہے۔ اس لیے میں نے اس کا ہتھیار نہیں اتارا۔ حسان نے کہا: مجھے اس کے ہتھیار اور سامان کی کوئی ضرورت نہیں۔ [2]
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بچوں اور عورتوں کی حفاظت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے اس جانبازانہ کارنامے کا بڑا گہرا اور اچھا اثر پڑا۔ اس کارروائی سے غالبا ًیہود نے سمجھا کہ