فهرس الكتاب

الصفحة 662 من 1287

زیر نظر کتاب کے بارے میں

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰه الذی أرسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ، فجعلہ شاہدًا ومبشرًا ونذیرًا ، وداعیًا إلی اللّٰه بإذنہ وسراجًا منیرًا، وجعل فیہ أسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللّٰه والیوم الآخر وذکر اللّٰه کثیرًا ، اللہم صل وسلم وبارک علیہ وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین وفجر لہم ینابیع الرحمۃ والرضوان تفجیرًا ۰أما بعد:

یہ بڑی مسرت اور شادمانی کی بات ہے کہ ربیع الاوّل ۱۳۹۶ء میں پاکستان کے اندر منعقدہ سیرت کانفرنس کے اختتام پر رابطۂ عالم الاسلامی نے سیرت کے موضوع پر عمدہ ترین بحث پیش کرنے کے لیے مقالہ نویسی کا ایک عالمی مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ اہلِ قلم میں ایک طرح کی امنگ اور ان کی فکری کاوشوں میں ایک طرح کی ہم آہنگی پیدا ہو۔ میرے خیال میں یہ بڑا مبارک قدم ہے کیونکہ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ درحقیقت سیرتِ نبوی اور اسوۂ محمدی ہی وہ واحد منبع ہے جس سے عالم اسلام کی زندگی اور انسانی معاشرے کی سعادت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر بے شمار درود وسلام ہو۔

پھر یہ میری سعادت وخوش بختی ہے کہ میں بھی اس مبارک مقابلے میں شرکت کے لیے ایک مقالہ تیار کررہا ہوں۔ لیکن میری بساط ہی کیا ہے کہ مَیں سیّد الاوّلین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر روشنی ڈال سکوں۔ میں تو اپنی ساری خوش بختی وکامرانی اسی میں سمجھتا ہوں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا کچھ حصہ نصیب ہوجائے، تاکہ میں تاریکیوں میں بھٹک کر ہلاک ہونے کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اُمتی کی حیثیت سے آپ کی روشن شاہراہ پر چلتا ہو ا زندگی گزاروں اور اسی راہ میں میری موت بھی آئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی برکت سے اللہ تعالیٰ میرے گناہوں پر قلمِ عفو پھیردے۔

ایک چھوٹی سی بات اپنی اس کتاب کے اندازِ تحریر کے متعلق بھی عرض کرنے کی ضرورت

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت