نے مراالظہران میں پڑاؤ کیا اور دیکھا کہ بنو عدنان بنو جرہم کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور انہیں مکہ سے نکال کر اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ دوسری صدی عیسوی کے وسط کا ہے۔ بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت زمزم کا کنواں پاٹ دیا اور اس میں کئی تاریخی چیزیں دفن کر کے اس کے نشانات بھی مٹا دیئے۔ محمد اسحٰق کا بیان ہے کہ عمرو بن حارث بن مضاض [1] جرہمی نے خانہ کعبہ کے دونوں ہرن [2] اور اس کے کونے میں لگا ہوا پتھر حجر اسود نکال کر زمزم کے کنویں میں دفن کر دیا اور اپنے قبیلہ بنو جرہم کو ساتھ لے کر یمن چلا گیا۔ بنو جرہم کو مکہ سے جلا وطنی اور وہاں کی حکومت سے محروم ہونے کا بڑا قلق تھا چنانچہ عمرو مذکور نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے۔
کان لم یکن بین الحجون الی الصفا انیس ولم بمکہ سامر
بلیٰ نحن کنا املہا فابانا صروف اللیالی والجدود المواشر [3]
ترجمہ: ''لگتا ہے حجون سے صفا تک کوئی آشنا تھا ہی نہیں اور نہ کسی قصہ گو نے مکہ کی شبانہ محفلوں میں قصہ گوئی کی، کیوں نہیں ! يقينًا ہم ہی اس کے باشندے تھے لیکن زمانے کی گردشوں اور ٹوٹی ہوئی قسمتوں نے ہمیں اجاڑ پھینکا۔''
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا زمانہ دو ہزار برس قبل مسیح ہے۔ اس حساب سے مکہ میں قبیلہ جرہم کا وجود کوئی دو ہزار ایک سو برس رہا اور ان کی حکمرانی لگ بھگ دو ہزار برس تک رہی۔ بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کرنے کے بعد بنوبکر کو شامل کئے بغیر تنہا اپنی حکمرانی قائم کی، البتہ تین اہم اور امتیازی مناصب ایسے تھے جو مضری قبائل کے حصے میں آئے۔
1۔ حاجیوں کو عرفات سے مزدلفہ لیجانا اور یوم النّفر 13 ذی الحجہ کو جو کہ حج کے سلسلے کا آخری دن ہے منیٰ سے روانگی کا پروانہ دینا ۔ یہ اعزاز الیاس بن مضر کے خاندان بنو غوث بن مرّہ کو حاصل تھا جو صوفہ کہلاتے تھے۔ اس اعزاز کی توضیح یہ ہے کہ 13 ذی الحج کو حاجی کنکری نہ مار سکتے تھے جب تک کہ صوفہ کا ایک آدمی کنکری نہ مار لیتا۔ پھر حاجی کنکری مار کر فارغ ہو جاتے اور منیٰ سے