دیکھ لیا اور اس زعم میں چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن روند دے گا لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایڑی کے بل پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے بچاؤ کر رہا ہے، لوگوں نے کہا ابوالحکم! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان آگ کی خندق ہے، حولناکیاں ہیں اور پر ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسکا ایک ایک عضو اچک لیتے۔ [1]
جوروستم کی یہ کاروائیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو رہی تھیں اور عوام و خواص کے نفوذ میں آپ کی منفرد شخصیت کا جو وقار اور احترام تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّے کے سب سے محترم اور عظیم انسان ابو طالب کی جو حمایت اور حفاظت حاصل تھی اس کے باوجود ہو رہی تھیں۔باقی رہیں وہ کاروائیاں جو مسلمانوں اور خصوصًا ان میں سے بھی کمزور افراد کی ایذا رسانی کے لئے کی جا رہی تھیں تو وہ کچھ زیادہ ہی سنگین اور تلخ تھیں۔ ہر قبیلہ اپنے مسلمان ہونے والے افراد کو طرح طرح کی سزائیں دے رہا تھااور جس شخص کا کوئی قبیلہ نہ تھا ان پر اوباشوں اور سرداروں نے ایسے ایسے جوروستم روا رکھے تھے جنہیں سن کر مظبوط انسان کا دل بھی بے چینی سے تڑپ جاتا ہے۔
ابو جہل جب کسی معزّز اور طاقتور انسان کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے برا بھلا کہتا،ذلیل و رسوا کرتا،اور مال و جاہ کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا۔اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے مارتا اور دوسروں کو بھی برانگیختہ کرتا۔ [2]
حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں دیتا۔ [3] حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی ماں کو انکے اسلام لانے کا علم ہوا تو انکا دانہ پانی بند کر دیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔یہ بڑے نازو نعمت میں پلے تھے، حالات کی شدت سے دوچار ہوئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کینچلی چھوڑتا ہے۔ [4]
حضرت بلال امیّہ بن خلف جمحی کے غلام تھے۔امیّہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا تھا اور وہ انہیں مکے کو پہاڑوں میں گھماتے پھراتے تھے یہاں تک کے گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا تھا۔خود امیّہ بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے سے مارتا تھا اور چلچلاتی دھوپ میں جبرًا بٹھائے رکھتا تھا۔کھانا پینا بھی نہ دیتا اور بھوکا پیاسا رکھتا،اور اس سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا تھا