فهرس الكتاب

الصفحة 122 من 253

یعنی: ''انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو الٰہ بنا لیا ہے جو کچھ بھی نہیں پیدا کر سکتے۔ بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور نہ وہ اپنے ہی نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ وہ موت و حیات اور قیامت کے دن جی اٹھنے پر قادر ہیں''۔

اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

(يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّٰهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ {73} مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ {74} ) (سورۃ الحج: آیت 73، 74)

یعنی: ''لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے ذرا غور سے سننا! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو وہ بھی اس سے نہیں چھین سکتے۔ بڑا ہی کمزور ہے مانگنے والا اور بڑا ہی کمزور ہے جس سے مانگا جا رہا ہے۔ انہوں نے اللہ کے مرتبے کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زوروقوت والا اور غالب اور زبردست ہے''۔

اسی طرح قبروں میں مدفون حضرات سے اولادیں اور مرادیں مانگنے والوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

(وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ {20} أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ {21} ) (سورۃ النحل: آیت 20، 21)

یعنی: ''جن جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں وہ مردے ہیں، زندہ بالکل نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے''۔

(15)بیماری اور شفاء صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے قوم کے باطل خداؤں کے بارے میں عملًا یہ ثابت کرنے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت