بات ذہن نشین کر لے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مفہوم کے مطابق ناگزیر حالات میں جھوٹ بولنا جائز ہے، بالخصوص وہاں جہاں اس کا فائدہ واضح ہو۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عمر تقریبًا چھیاسی (86) برس ہو چکی تھی، عام انسانوں کی طرح اولاد جیسی بیش قدر نعمت کا ہر انسان خواہشمند ہوتا ہے، رب تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے:
(رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ {100} ) (سورۃ الصافات: آیت 100)
یعنی: ''اے میرے پروردگار! مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔''
رب تعالیٰ نے اپنے خلیل علیہ السلام کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور فرمایا:
(فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ {101} ) (سورۃ الصافات: آیت 101)
یعنی: ''ہم نے آپ علیہ السلام کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔''
اکثر مفسرین کے نزدیک سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے جو دعائیں مانگ مانگ کر لئے تھے، وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، جو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور یہی اکلوتے بیٹے ہیں جن کی قربانی اللہ تعالیٰ نے مانگی اور انہیں کو ذبیح اللہ کے پرافتخار لقب سے ملقب کیا جاتا ہے، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ سیدنا اسحاق علیہ السلام ذبیح اللہ ہیں، نہ کہ اسماعیل علیہ السلام، ان کی یہ رائے درست نہیں، کیونکہ قرآن کے سیاق و سباق، تاریخ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں، مثلًا:
(1) قربانی کے لئے خود تیار ہو جانا یہ حلم و بردباری کی اعلیٰ مثال ہے اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بشارت پر (فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ {101} ) کہہ کر بردباری کی صفت کا تذکرہ کیا گیا ہے جبکہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کی بشارت پر (بِغُلَامٍ عَلِيمٍ {53} ) کی صفت کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(2) یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہیں اور چھوٹے بیٹے سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں، لہٰذا بڑا بیٹا ہی اکلوتا ہو سکتا ہے، جس کی قربانی