فهرس الكتاب

الصفحة 135 من 253

ملکیت تو دور کی بات اپنے لیے بھی نفع دینے اور نقصان دور کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللّٰهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ {106} ) (سورۃ یونس: آیت 106)

یعنی: ''اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کر جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان، پھر اگر ایسا کیا تو آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے''۔

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

(يَدْعُو مِن دُونِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ {12} يَدْعُو لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ {13} ) (سورۃ الحج: آیت 12، 13)

یعنی: '' (یہ مشرک) اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان، یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے، ایسے کو پکارتا ہے جس کا نقصان دینا اس کے نفع دینے سے زیادہ قریب ہے یقینًا یہ برا مولیٰ اور برا ساتھی ہے''۔

(22)اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قوم جن بتوں کی پجاری تھی ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتی تھی کہ یہ ہمیں نفع نقصان پہنچانے کے مالک ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا بجھایا مگر نہ سمجھ پائے، آخر ایک دن ان کے بت خانے میں داخل ہوئے:

(فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ {58} قَالُوا مَن فَعَلَ هَـٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ {59} قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ {60} قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ {61} قَالُوا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت