فهرس الكتاب

الصفحة 234 من 253

مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، امن کا گہوارہ، تزکیہ نفس کی جگہ، علم و عمل کا مرکز، تسبیح و تمحید، دعا و مناجات کا محل اور عبد اور معبود کے تعلق کی پختگی کا ضامن مقام ہیں، مساجد کو صفائی ستھرائی اور زمزمہ سرائی (عبادت الٰہی) سے آباد کرنا، نیز شوروشغب اور ہاوہو سے بچانا اس کے آداب میں شامل ہے مگر بدقسمتی سے آج مساجد اجارہ داری اور ذاتی آمریت کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ خاندانی جھگڑوں اور ذاتی مفادات کو گھسیٹ کر مسجد میں لایا گیا ہے، انہیں سیاسی گفتگو کی آماجگاہ اور کاروباری لین دین اور دنیاوی باتوں کا مرکز بنا لیا گیا ہے، ان میں شوروغل عام ہے۔

اکثر مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ پانچ وقت کی اذان سن کر بھی مسجد کی طرف رخ نہیں کرتے، حالانکہ عشاء اور صبح کی نماز نہ پڑھنا منافق کی نشانی ہے:

(( عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضي اللّٰه عنه قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي اللّٰه عليه وسلم ليسَ صَلاةٌ أثْقَلَ على المُنافِقِينَ مِنَ الفَجْرِ والعِشاءِ ) ) [1]

عصر کی نماز ترک کرنے سے اہل و مال کے ہلاک ہونے جتنا خسارہ ہے۔ [2]

مسلمان، مشرک اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز ہے:

(( عَنْ جَابِرٍ يَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلي اللّٰه عليه وسلم يَقُوْلُ إنَّ بيْنَ الرَّجُلِ وبيْنَ الشِّرْكِ والْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاةِ ) ) [3]

کتنی ہی اچھی بات ہو گی اگر لوگ نمازی بن جائیں اور ہر محلے کی مسجد نمازیوں

[2] صحيح بخاري: كتاب المواقيت، باب فضل صلوٰة العصر، حديث: 553، 552، 594، صحيح مسلم: كتاب المساجد، باب التغليط في تفويت العصر، حديث: 626

[3] صحيح مسلم: الكتاب الايمان، باب بيان اطلاق اسم الكفر عليٰ من ترك الصلوٰة، حديث: 82

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت